سلسلۂ روز و شب نقش گرِ حادثات

مدینہ کی ریاست بنانے والے رکھ دی تو نے بنیاد کوفہ کی کل تھے کام یزید کے جو آج ہیں مجبوریاں حکمران کی وہ اس دیس میں کہیں انصاف بکتا ہے اس دیس میں کہیں انصاف ٹلتا ہے مجھ کو محصور کیا ہے مری آگاہی نے آئی ہے اُس دیس کے کُوچے سے ہوکر ندا کُچھ اور پر دیکھا کل ماجرا جو کلیجا منہ کو آیا جو ہر دھڑکن ہیجانی تھی، ہر خاموشی طوفانی تھی الٰہی خلقتِ آدم کے ہیجانی ارادے میں محافظ بنا مرا قاتل کہہ کے کے میں دہشتگرد ہوں

Powered by WordPress.com.

Up ↑